منگل 28 جولائی 2026 - 21:17
جامعہ النجف سکردو میں تین روزہ "شہیدِ اُمت" کیریئر کونسلنگ ورکشاپ کا انعقاد

حوزہ/حوزہ علمیہ جامعہ النجف سکردو میں علم صرف معاشی ترقی کا ذریعہ ہے یا ایک صالح اور باکردار انسان کی تشکیل کا ذریعہ؟ ایک کامیاب کیریئر کی بنیاد اعلیٰ تنخواہ ہے یا بلند کردار؟ پر تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ جامعہ النجف سکردو میں علم صرف معاشی ترقی کا ذریعہ ہے یا ایک صالح اور باکردار انسان کی تشکیل کا ذریعہ؟ ایک کامیاب کیریئر کی بنیاد اعلیٰ تنخواہ ہے یا بلند کردار؟ پر تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

یہی وہ بنیادی سوالات تھے جنہوں نے جامعۃ النجف سکردو میں منعقد ہونے والے تین روزہ "شہیدِ اُمت" کیریئر کونسلنگ ورکشاپس کو ایک معمول کی تربیتی نشست کے بجائے فکری و اخلاقی مکالمے میں تبدیل کر دیا۔

شیخ مفید ہال میں منعقد ہونے والی اس ورکشاپ سے ممتاز عالمِ دین حجۃ الاسلام ڈاکٹر محمد علی ممتاز نے خطاب کیا۔

جامعہ النجف سکردو میں تین روزہ "شہیدِ اُمت" کیریئر کونسلنگ ورکشاپ کا انعقاد

تین روزہ نشستوں میں انہوں نے طلبہ کی علمی، اخلاقی، روحانی اور عملی تربیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس تصور کو اجاگر کیا کہ حقیقی تعلیم انسان کے اندر مقصد، کردار اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

تعلیم کیوں؟

ورکشاپ کے پہلے روز ڈاکٹر محمد علی ممتاز نے اپنے خطاب کا آغاز تین بنیادی سوالات سے کیا: انسان کیوں پڑھتا ہے؟ کیسے پڑھتا ہے اور کیا پڑھتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ اگر تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی یا ملازمت کا حصول رہ جائے تو اس کی روح باقی نہیں رہتی۔ تعلیم دراصل انسان کو اپنے وجود، معاشرے اور اپنی ذمہ داریوں کا شعور عطا کرتی ہے۔

انہوں نے تعلیمی منصوبہ بندی یا ایجوکیشن مینجمنٹ کو کامیابی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے منصوبہ بندی، نظم و ضبط اور وقت کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ ان کے مطابق ہر طالب علم کے لیے تین اوصاف ناگزیر ہیں: سخت محنت، وقت کی قدر اور منظم منصوبہ بندی۔

جامعہ النجف سکردو میں تین روزہ "شہیدِ اُمت" کیریئر کونسلنگ ورکشاپ کا انعقاد

انہوں نے اساتذہ کو بھی پیغام دیا کہ بچوں کو اسلامی معارف اور اخلاقی اقدار کہانیوں، واقعات اور اشعار کے ذریعے سکھائے جائیں تاکہ تعلیم بوجھ نہیں بلکہ فکری و روحانی تربیت کا ذریعہ بنے۔
کیریئر یا کردار؟

ورکشاپ کے دوسرے روز گفتگو کا محور شخصیت سازی اور مقصدِ حیات تھا۔

ڈاکٹر محمد علی ممتاز نے کہا کہ ہر نوجوان کو پہلے اپنی فطری صلاحیتوں اور رجحانات کو پہچاننا چاہیے، کیونکہ کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی توانائی صحیح سمت میں صرف کرے۔

انہوں نے کہا کہ کامیابی صرف پیشہ ورانہ ترقی کا نام نہیں بلکہ خالص نیت، رضائے الٰہی، تزکیۂ نفس، عبادت اور مسلسل خود احتسابی اس کی حقیقی بنیادیں ہیں۔

جامعہ النجف سکردو میں تین روزہ "شہیدِ اُمت" کیریئر کونسلنگ ورکشاپ کا انعقاد

ان کے مطابق اس بات کا اہتمام ضروری ہے کہ علم انسان کو صرف ماہر نہیں بلکہ بہتر انسان بنائے۔ اگر تعلیم کردار، دیانت اور خدمتِ انسانیت پیدا نہ کرے تو وہ اپنی اصل غایت سے محروم رہ جاتی ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ اپنی جوانی کو علم، خدمت اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کریں، کیونکہ یہی سرمایہ مستقبل کی قیادت کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں ان صفات کا نمایاں نمونہ شہیدِ اُمت آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت میں دیکھا جا سکتا ہے، جنہوں نے استقامت، خود اعتمادی، قیادت اور خدمتِ امت کا عملی نمونہ پیش کیا۔

انہوں نے طلبہ کو خود اعتمادی، ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش، بہترین دوستوں کے انتخاب اور اخلاق و کردار کی مسلسل اصلاح کی بھی نصیحت کی۔

جامعہ النجف سکردو میں تین روزہ "شہیدِ اُمت" کیریئر کونسلنگ ورکشاپ کا انعقاد

علم کی برکت اور مطالعے کا سلیقہ
ورکشاپ کے آخری روز گفتگو زیادہ تر مطالعے کی عادات، روحانی تربیت اور عملی زندگی کی مہارتوں پر مرکوز رہی۔

ڈاکٹر محمد علی ممتاز نے کہا کہ تجربہ کار افراد سے سیکھنا، اساتذہ اور والدین کا احترام کرنا اور مسلسل رہنمائی حاصل کرنا کامیابی کے اہم ذرائع ہیں۔

انہوں نے مطالعے کے آداب بیان کرتے ہوئے کہا کہ وضو،طہارت، پاکیزگی اور یکسوئی کے ساتھ مطالعہ انسان کے اندر علم کی برکت پیدا کرتا ہے، جبکہ دعا اور توسل انسان کو روحانی سکون اور قلبی اطمینان عطا کرتے ہیں۔

انہوں نے حضرت ام البنینؑ اور حضرت فاطمۃ الزہراؑ سے توسل کی اہمیت کا بھی ذکر کیا اور اسے روحانی استحکام کا ذریعہ قرار دیا۔طلبہ کو انہوں نے عملی زندگی کے لیے متعدد رہنما اصول بھی دیے، جن میں مسلسل محنت، ورزش، مناسب نیند، خلاصہ نویسی، پیشگی مطالعہ، مباحثہ، غلطیوں سے سیکھنا، تدریسی مہارت پیدا کرنا، نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور دوسروں کی بات غور سے سننا شامل تھے۔

یہ ورکشاپ محض کیریئر کے انتخاب یا ملازمت کی منصوبہ بندی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں کیریئر کونسلنگ کو اخلاق، روحانیت، علم اور سماجی ذمہ داریوں کے وسیع تناظر میں پیش کیا گیا۔

اختتامی خطاب میں ڈاکٹر محمد علی ممتاز نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی علمی صلاحیتوں کو صرف ذاتی ترقی کے لیے نہیں بلکہ امت، معاشرے اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کریں۔ ان کے مطابق ایک کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے علم، کردار اور خدمت کے ذریعے دوسروں کے لیے امید، رہنمائی اور خیر کا ذریعہ بن جائے۔

تین روزہ ورکشاپ کا مجموعی پیغام یہی تھا کہ کامیاب کیریئر کی بنیاد صرف پیشہ ورانہ مہارت نہیں بلکہ بلند مقصد، صالح کردار، مسلسل محنت اور خدمتِ انسانیت کا جذبہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha